Skip to main content

انسان چاند پر نہیں گیا تھا، اپالو 17 کی اولین تصاویر پر نیا اعتراض

http://ift.tt/2zix4xD

 واشنگٹن: ناسا اور دیگر ماہرین کی جانب سے ہزار ثبوتوں کے باوجود بھی تنقید نگار اب بھی انسان کے چاند پر قدم رکھنے پر یقین نہیں رکھتے اور آئے دن نئے اعتراضات سامنے لاتے رہتے ہیں۔ اب ان کا تازہ اعتراض اپالو 17 کی نئی ویڈیو میں سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خلانورد کے شفاف ہیلمٹ پر ایک اور شخص کا سایہ نظر آرہا ہے جس نے خلائی سوٹ نہیں پہنا ہوا ہے۔

یہ ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے جس میں اپالو پروگرام کے آخری مشن پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ ویڈیو کو ایک سافٹ ویئر کے ذریعے مزید واضح کیا گیا ہے۔ یوٹیوب کے ایک صارف اسٹریٹ کیپ ون نے اپالو 17 کی ایک ویڈیو کو آج کے ایک جدید سافٹ ویئر کے ذریعے واضح کیا ہے اور اس میں ایک اہم بات سامنے لائی گئی ہے کہ خلانورد کے ہاتھ میں ایک کیمرہ ہے اور اس کے شفاف ہیلمٹ پر سامنے کا عکس دکھائی دے رہا ہے لیکن اس عکس میں نظر آنے والا شخص خاص خلائی سوٹ پہنے ہوئے نہیں ہے ۔ اب اگر وہ چاند پر ہے تو وہاں خلائی سوٹ لازمی ہوتا ہے اور یوں یہ تصویر جعلی ہے اور امریکہ نے چاند پر جانے کا ڈرامہ رچایا ہے۔

واضح رہے کہ چاند پر اترنے والا ہر خلانورد اشعاع سے بچنے کے لیے خاص لباس پہنتا ہے اور اس کی پشت پر لائف سپورٹ مثلاً آکسیجن اور پانی کا نظام موجود ہوتا ہے۔

اپالو 17 کے ذریعے امریکی خلانورد آخری مرتبہ چاند پر گئے تھے ۔ ان میں یوگین سرنین اور ہیریسن جیک شمٹ نے چاند پر 22 گھنٹے گزارے تھے جبکہ ایک اور ساتھی رونالڈ ایونز چاند کے گرد مدار میں موجود تھا۔ خلانوردوں نے چاند کی فضا، ارضیاتی کیفیات اور چاند کے پتھروں کے نمونے بھی لیے تھے۔

اس ویڈیو کو 53 ہزار سے زائد لوگوں نے دیکھا ہے اور اس کے عکس پر خوب بحث کی جارہی ہے۔ ’ تصویر میں ایک انسانی ہیولہ نظر آرہا ہے جس نے کوئی خلائی سوٹ نہیں پہنا ہوا ہے۔‘ لگتا یوں ہے کہ کوئی لمبے بالوں والا انسان ایک ویسٹ کوٹ پہنے ہوئے ہے۔

کئی لوگوں نے اس ویڈیو کی تائید کی ہے جبکہ ایک ناظر نے کہا ہے کہ روشنی کم ہونے کی وجہ سے سفید خلائی سوٹ کا عکس مکمل طور پر نہیں آسکا جو ویڈیو جعلی ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔

The post انسان چاند پر نہیں گیا تھا، اپالو 17 کی اولین تصاویر پر نیا اعتراض appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » دلچسپ و عجیب http://ift.tt/2zgS0VM
via IFTTT

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...