Skip to main content

دنیا کا نایاب ترین سورج مکھی بن مانس

http://ift.tt/2iKV7y5

جکارتہ: دنیا کے واحد سورج مکھی بن مانس کوبچا لیا گیا ہے جس کی صحت اب بہترہے اورجلد قدرتی ماحول کے حوالے کردیا جائےگا۔

تیزی سے جنگلات کی کٹائی، موسمی تبدیلی اورغیرقانونی شکار کے باعث  بن مانس کی نسل معدومی کی جانب تیزی سے گامزن ہے دوسری جانب دنیا کے پہلے نایاب ترین سورج مکھی بن مانس کو بچانے کےلئے  جنگلی حیاتیات کے حکام مصروف عمل ہیں۔

بورنیو اورنگ اوتان سروائیول فاؤنڈیشن(بی اوایس) کےمطابق پانچ سالہ بن مانس ’البا‘ انڈونیشیا کے گاؤں سے ملی، لاطینی زبان میں البا کا مطلب سفید رنگ ہے سورج مکھی ہونے کی وجہ سے اس بن مانس کو البا کا نام دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کا پہلا نایاب ترین سورج مکھی بن مانس ہے جو بیماری کے باعث بہت بری حالت میں تھا، پیراسائیٹیکل انفکیشن سے بری طرح متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ وزن بھی انتہائی کم تھا،اگر فوری طور پرطبی امداد نہیں ملتی تو ممکن تھا کہ قدرت کےنایاب ترین تحفے سے محروم ہوجاتے۔ بی او ایس حکام کاکہنا ہے کہ اگرچہ البا اب صحت یاب ہورہی ہے لیکن اس میں جلد کے سرطان کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔

بی او ایس کا کہنا ہے کہ البا میں جلد کے سرطان کے امکانات ہیں اس لئے اس کو جنگل کے حوالے کرنا خطرناک ہوسکتا، اس خطرے کے پیش نظر بی او اس نے پانچ ایکڑ پر قدرتی طرز پرمصنوعی جنگل بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں البا محفوظ زندگی گزار سکے گی جبکہ ماہرین کی نظرمیں بھی رہے گی تاکہ کسی بھی بیماری کی صورت میں فوری طبی امداد فراہم کی جاسکے۔

بی آوایس کےمطابق البا کے لئے قدرتی ماحول فراہم کرنے کےلئے80 ہزار ڈالرزکی ضرورت ہے جس کے لئے عطیات جمع کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے،

 

The post دنیا کا نایاب ترین سورج مکھی بن مانس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » دلچسپ و عجیب http://ift.tt/2lpoDKD
via IFTTT

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...