Skip to main content

بھارتی گاؤں جہاں سیکڑوں افراد کی ایک ہی تاریخ پیدائش ہے

http://ift.tt/2iJDGOd

بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے ایک گاؤں گیندی کھاتا میں 800 افراد کے ایک ہی دن پیدا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اتراکھنڈ کے شہر ہریدوار سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع گاؤں گیندی کھاتا سے تعلق رکھنے والے 800 افراد کے شناختی کارڈز پرتاریخ پیدائش یکم جنوری درج ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں ایک ہی تاریخ پیدائش درج ہونے کی خبر نے میڈیا کی توجہ حاصل کرلی۔

گیندی کھاتا گاؤں کے رہائشی الف دین کے شناختی کارڈ  پر بھی تاریخ پیدایش یکم جنوری درج ہے اور صرف ان ہی کے نہیں بلکہ ان کے خاندان کے ہر فرد کے شناختی کارڈ پر یہی تاریخ درج ہے۔ الف دین نے اس بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے گاؤں کے تمام افراد نے اپنا شناختی کارڈ بنانے کےلیے ووٹر آئی ڈی کارڈ اور راشن کارڈ ایک پرائیویٹ ایجنسی کو دیئے تھے۔ اس ایجنسی سے ہی شناختی کارڈ بنانے کے دوران یہ غلطی ہوئی ہے۔

ایک اور رہائشی قیوم نے کہا کہ جب ہم گاؤں والوں نے اپنے شناختی کارڈ دیکھے تو حیران رہ گئے کیونکہ سب پر تاریخ پیدائش ایک ہی تھی جب کہ کچھ لوگوں کا سنِ پیدائش بھی راشن کارڈ کے مطابق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ صرف تاریخ پیدا ئش ہی نہیں بلکہ شناختی کارڈ میں اور بھی بہت سی غلطیاں کی گئی تھیں جیسے میری دادی کی عمر کارڈ میں 22 سال درج تھی جب کہ کچھ لوگوں کی عمر 15 سے 60 سال کے درمیان درج تھی۔

گاؤں کے ڈپٹی چیف محمد عمران کا کہنا ہے کہ مقامی افراد نے ایک پرائیویٹ ایجنسی کو شناختی کارڈ بنانے کےلیے اپنے ووٹر آئی ڈی کارڈ اور راشن کارڈ ز کی نقول فراہم کی تھیں، یہ غلطی ایجنسی کی جانب سے ہی کی گئی ہے۔ مقامی افراد اس بات پر بہت پریشان ہیں کہ وہ صحت و تعلیم کے شعبے اور عوامی فلاح وبہبود کے مختلف منصوبوں سے استفادہ نہیں کرسکیں گے جس کےلیے انہیں شنا ختی کارڈ کی ضرورت پڑے گی۔

واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ شناختی کارڈ پر متعدد لوگوں کی یکساں تاریخ پیدائش درج ہو بلکہ اسی طرح کا ایک اور واقعہ اگست میں بھی سامنے آیا تھا جب آگرہ کے تین گاؤں کے تمام رہائشیوں کے شناختی کارڈ پر ایک ہی تاریخ یکم جنوری درج تھی۔

The post بھارتی گاؤں جہاں سیکڑوں افراد کی ایک ہی تاریخ پیدائش ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » دلچسپ و عجیب http://ift.tt/2zgRF5j
via IFTTT

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...