Skip to main content

ہزاروں پتوں سے بنا منفرد لباس

http://ift.tt/2zMbCNj

بیجنگ .: چین کی یونیورسٹی کے چار طلبا نے 6 ماہ کی جدوجہد کے بعد  ہزاروں پتوں سے ایک دلفریب لباس تیارکیا ہے جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہورہی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ پرانے وقتوں میں لوگ درختوں کے پتوں اور چھال سے اپنا تن ڈھانتے تھے پھر وقت کے ساتھ ساتھ معاشروں نے لباس میں بھی جدت آگئی لیکن لگتا ہے چین میں پرانا وقت پھر سے لوٹ آیا ہے کیونکہ وہاں ہزاروں پتوں کی مدد سے تیار کئے گئے ایک لباس کے کافی چرچے ہیں، یہ لباس چین کی ہی فائی یونیورسٹی کے 4 طلبہ نے 6 مہینوں کی محنت سے تیار کیا ہے۔

لباس تیار کرنے والے طلبا کا کہنا ہے کہ وہ یونیورسٹی کے سالانہ اینیمل اینڈ پلانٹ اسپیسی مین کنٹیسٹ کےلئے کچھ انوکھا اور منفرد کرناچاہتے تھے اور پھر بہت سوچ بچار کے بعد درختوں کے پتوں سے لباس کی تیاری کا فیصلہ کیا۔

لباس کی تیاری کے لیے ہمیں خاص قسم کے پتوں کی ضرورت تھی ، یہ پتے صرف منگولیا کے پہاڑوں پر خاص قسم کے درختوں سے ہی مل سکتے تھے ، اس کے لیے ہم ان دشوار گزار پہاڑوں تک بھی گئے اور اساتذہ کے تعاون سے 6  ماہ کی مدت میں لباس کی تیاری مکمل ہوئی۔

طلبا کا کہنا ہے کہ پتوں کو حاصل کرنے سے لباس کی تیاری تک کا مرحلہ بہت اہم ہے، پتوں کو سوکھنے اور خراب ہونے سے بچانے کے لئے ان کو دو گھنٹوں تک مختلف کیمیائی مرکبات میں ابالا گیا جس سے ان کی اوپری پرت علیحدہ ہوگئی اور پتے کا صرف جال باقی رہ گیا ۔ پتوں کو کیمیائی مرکبات میں ابالنا انتہائی نازک مرحلہ تھا ہمیں اس بات کا بہت خیال رکھنا پڑرہا تھا کہ ابالنے کا وقت بالکل درست ہو کیونکہ اگر وقت سے زیادہ ابالنے پر نازک پتوں کے خراب ہونے کا خدشہ تھا۔

طلباکا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں مختلف اشیا سے لباس تیار کئے گئے لیکن پتوں سے تیار کیا جانے والا ایسا منفرد لباس اس سے قبل نہیں دیکھا گیا۔

The post ہزاروں پتوں سے بنا منفرد لباس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » دلچسپ و عجیب http://ift.tt/2zMbEop
via IFTTT

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...