Skip to main content

بل گیٹس کا نظر انتخاب پاکستان تھا مگر







میاں نواز شدیف کا دوسرا دور حکومت تھا ہمارے ملک کے اک بڑے بزنس مین کے بیٹے کو امریکہ میں معلوم ہوا کہ مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس پینتیس ملین ڈالر کی لاگت سے کسی ایشیائی ملک میں مائیکروسافٹ یونیورسٹی ایڈوانس ٹیکنالوجی لیب بنانا چاہتے ہیں اور ان کا نظر انتخاب پاکستان ہے مگر امریکہ میں موجود بھارتی لابی اس پروگرام کو بھارت لے جا رہی ہے تو اس نوجوان نے وطن کی محبت میں متحرک ہونے کا فیصلہ کیا اور مائکروسافٹ کی ایشیائی ٹیم کے لیڈر سے بات کی کہ یہ منصوبہ پاکستان کو ہی ملنا چاہییے اس پر ٹیم لیڈر نے کہا کہ پاکستان میں چونکہ نقل سازی عام ہے اور پائیریسی کے متعلق کوئی موثر قانون سازی بھی نہیں کی گئی لہذا اگر پاکستان تحریری ضمانت دے کہ پائیریسی کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی تو ہم یہ یونیورسٹی پروگرام پاکستان میں لانچ کر سکتے ہیں نوجوان خوشی خوشی اک مہینے کا ٹائم لے کر پاکستان چلا آیا کہ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں،مگر نوجوان جب پاکستان پہنچ کر حکومتی دروازوں پر پہنچا تو معلوم پڑا کہ اپنے وزیراعظم کے پاس ملاقات کا وقت نہیں ہے وزیروں کے پاس بھی فرصت نہیں تھی کہ اک غیر ملکی کو تحریری ضمانت دیتے پھریں بیوروکریسی کو تو ویسے ہی ملکی مفاد کے منصوبوں سے دلچسپی نہیں تھی انہیں تو بڑے صاحب کے باتھ روم کی تزین و آرائش اور لاہور والے گھر جیسا شاور ڈھونڈنے کی ٹینشن تھی خیر ہفتہ دس دن کی دوڑ دھوپ کے بعد یہ نوجوان وفاقی وزیر ہمایوں اختر سے ملنے میں کامیاب ہو گیا تمام معاملہ سن کر ہمایوں اختر نے کہا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال سے ملو اس پروجیکٹ کی متعلقہ وزارت کا قلمدان احسن اقبال کے پاس ہیں مزید کچھ دن خوار ہونے کے بعد احسن اقبال سے ملاقات ممکن ہوئی نوجوان نے بصد ادب تمام معاملہ گوش گزار کیا جسے سن کر وزیر صاحب موصوف نے فرمایا اگر بل گیٹس مجھے خط لکھے تو پھر یہ گارنٹی دی جا سکتی ہےاب بندہ پوچھے کہ دنیا کا امیر ترین بندہ اگر پاکستان جیسے غریب ملک کو مفت میں اک انتہائی اہم یونیورسٹی دینا چاہتا ہے درخواست کرنے کی پوزیشن میں آپ ہیں یا وہاس کو کیا پڑی ہے کہ وہ خط لکھ کر قانون سازی کے متعلق درخواستیں کرے یہ اس کا کام ہے یا آپ کا مگر وزیر صاحب نے نخوت بھرے لہجے میں یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دی کہ ہمیں سکھانے کی بجائے وہ کرو جو کہا گیا ہے، بے عزتی کرانے کے باوجود نوجوان چین سے نہ بیٹھا کیونکہ وہ اس منصوبے کی اہمیت سے آگاہ تھا مزید کچھ دن خوار ہونے کے بعد اسے اک خط دیا گیا جس میں اک ڈرائیکٹر صاحب نے بل گیٹس کو حکم دیا ہوا تھا کہ جونہی یہ خط ملے تو فوراً حاضر ہو جائیں تاکہ آپ کی درخواست پر ہمدردانہ غور کیا جائےاب نوجوان کی ہمت جواب دے گئی یہ خط آج بھی اس نوجوان کے پاس موجود ہے ذرا سوچیں اگر یہ خط بل گیٹس کو دے دیا جاتا تو وہ ہمارے متعلق کیا سوچتانوجوان تو تھک ہار کر بیٹھ گیا مگر انڈین لابی متواتر کوششوں میں لگی رہی اور جب انہیں معلوم پڑا کہ اب لوہا گرم ہے تو اپنے بھارتی وزیر اعظم سے بل گیٹس کو فون کروا دیا جس نے نہ صرف ہر قسم کی ضمانت دینے کا وعدہ کیا بلکہ بل گیٹس کو بھارت آ کر خود اس کا افتتاح کرنے کی دعوت بھی دے ڈالی پھر دو ماہ بعد بل گیٹس نے بھارت جا کر نہ صرف یہ پروگرام لانچ کیا بلکہ سافٹ وئیر کی تعلیم کے لئے سو ملین ڈالر سالانہ دینے کا بھی اعلان کیابھارتیوں کے دن پھرے صرف دس سال کے قلیل عرصے میں ساڑھے دس لاکھ بھارتی امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہےتھے بلکہ اکیلے بھارتی شہر بنگلورو کی سالانہ آئی ٹی ایکسپورٹ اسی ہزار کروڑ ہو گئیامریکیوں کے بعد سب سے گوگل استعمال کرنے والے ہندوستانی آج مائیکروسوفٹ اور دیگر بڑی آئی ٹی کمپنیوں میں سی ای او سمیت دوسرے کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں اور ان کمپنیز کے لیے بھارتیوں کو جاب دینا مجبوری بن چکا یے وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے بھارتیوں کو جاب نہ دی تو اک سال میں بھارتی ماہرین ہم سے بھی بڑی آئی ٹی کمپنیز کھڑی کر دیں گے اب بھی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف اور ان کی تجربہ کار ٹیم پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں تو یہ صرف آپ کی خوش فہمی ہی ہے*-*-*-*-*-*-*-*-*روزنامہ خبریں میں شائع ہونے والے رضوان ظفر گورمانی کے اک کالم سے اقتباسx

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...